Monday, January 25, 2016

تحریر: جناب مولانا محمد یوسف انور

ماہِ رمضان المبارک کے ایک جمعہ کے دن مجاہد اول سردار عبدالقیوم خاں اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون! بہت کم لوگوں کو بلکہ آج کی نسل کو بالکل علم نہیں کہ سردار صاحب معروف اہل حدیث عالم دین اور شہدائے بالا کوٹ سید محمد احمد شاہ شہید اور سید محمد اسماعیل شاہ شہید دہلوی کے مشن کے علمبردار‘ امیر المجاہدین مولانا فضل الٰہی وزیر آبادی کے نہ صرف تربیت یافتہ بلکہ سردار صاحب نے 1948ء میں ان کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ قیام پاکستان کے وقت مہا راجہ کشمیر کی طرف سے کشمیریوں کی خواہشات اور تقسیم ہند کے پلان کے مطابق الحاق پاکستان سے انکار پر سردار عبدالقیوم خان نے 23 اگست 1947ء کو نیلہ بٹ کے مقام سے اپنے ساتھیوں سمیت جہادِ آزادی کا اعلان کیا۔ اس جد وجہد کی قیادت مولانا فضل الٰہی وزیر آبادی فرما رہے تھے۔ اس گروہ مجاہدین میں صوفی محمد عبداللہ بانی دارالعلوم اوڈانوالہ اور ان کے چند مریدین بھی شامل تھے۔ اس جہاد کے نتیجہ میں اور نہایت مختصر عرصہ میں گلگت بلتستان سمیت آزاد جموں وکشمیر کا 32000 مربع میل کا علاقہ آزاد ہوا۔ جہاں آزاد جموں وکشمیر حکومت کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس تحریک آزادئ کشمیر میں کلیدی اور نمایاں کردار سردار عبدالقیوم خاں کا اس طرح تھا کہ پہلی گولی دشمن کے خلاف انہوں نے چلائی تھی جس بنا پر قوم نے انہیں ’’مجاہد اول‘‘ کا خطاب دیا۔ لیکن برا ہو تعصب اور تاریخی حقائق سے انغماض کا کہ مولانا فضل الٰہی وزیر آبادی کے تحریک آزادی کے اس اہم رول میں ان کا کہیں نام نہیں ملتا۔

مرکزی جمعیت اہل حدیث ضلع گوجرانوالہ کے پہلے ناظم مولانا خالد گرجاکھی نے امیر المجاہدین مولانا فضل الٰہی وزیر آبادی کی سیرت وکردار پر جو کتاب تحریر کی ہے اس میں یہ تمام تر روئیداد وتفصیلات موجود ہیں۔ یاد رہے کہ مولانا فضل الٰہی وزیر آبادی شروع دن سے مسلم لیگ کی تحریک پاکستان کی تگ وتاز کے زبردست حامی تھے۔ وہ 23 مارچ 1940ء کے تاریخ ساز دن مینار پاکستان لاہور کے جلسۂ عام میں بھی موجود تھے۔ وہ پنڈال کے ایک کونہ پر تشریف فرما تھے۔ جلسہ کے صدر قائد اعظم کے پیغام اور اصرار کے باوجود وہ اسٹیج پر تشریف نہ لائے اور کہا کہ وہ قائد کے ادنیٰ کارکن کی حیثیت سے کارکنان کے ساتھ پنڈال میں بیٹھیں گے۔ تقسیم ملک سے قبل قائد اعظم اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن نیز مولانا ابوالکلام آزاد اور پنڈت نہرو کے درمیان گفتگو کی جو مجلسیں منعقد ہوتی رہیں ان میں مولانا فضل الٰہی وزیر آبادی اور دوسرے بنگال سے جلیل القدر اہل حدیث عالم دین علامہ راغب احسن بھی شامل رہے تھے۔ ان موقعوں پر مولانا ابوالکلام آزاد‘ حضرت مولانا سید محمد داود غزنوی سے بھی مشاورت کرتے رہے تھے۔ تقسیم ملک کے اعلان کے وقت بھی مولانا غزنوی اسی سلسلہ میں دہلی ہی میں تھے۔

بلاشبہ سردار عبدالقیوم خان کشمیر کی وہ شخصیت ہیں جو پاکستانیوں کے دلوں میں ہمیشہ بستے رہیں گے۔ آج اگر کشمیر کے کچھ حصے کے نام سے آزاد کا لفظ منسلک ہے تو یہ سردار عبدالقیوم کی عملی جد وجہد کا ثمرہ ہے مگر یہ ساری جد وجہد مولانا فضل الٰہی وزیر آبادی کی زیر قیادت پہلی آزاد کشمیر رجمنٹ کی کمان کرتے ہوئے بھارتی افواج سے لڑ کر کی گئی اور پہلی گولی چلا کر ’’مجاہد اول‘‘ کا خطاب پایا۔ سردار صاحب کے ساتھ قبائل کے نوجوانوں نے اپنا خون نچھاور کیا اور آج آزاد کشمیر کے شہری آزاد فضا میں سانس لے رہے اور سکھ کی زندگی گذار رہے ہیں۔ سردار صاحب بیشتر مرتبہ آزاد کشمیر کے صدر اور وزیر اعظم کے عہدوں پر فائز رہے۔ اس دور کے مرکزی جمعیت اہل حدیث کے ناظم اعلیٰ میاں فضل حق سے ان کے گہرے مراسم تھے۔ آزاد کشمیر میں خصوصاً مظفر آباد کی جمعیت اہل حدیث کی سالانہ کانفرنسوں میں بھی ان کی شرکت رہتی۔ جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں بھی دو تین مرتبہ وہ تشریف لائے اور میاں صاحب کی دعوت پر اساتذہ وطلبہ سے خطاب کیا۔ آزاد کشمیر کی اسلامی نظریاتی کونسل اور دیگر اہم مذہبی امور کی کمیٹیوں میں انہوں نے مولانا محمد یونس اثری علیہ الرحمہ کی شمولیت کو ہمیشہ مقدم رکھا۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث کی تنظیم وتبلیغ کے لیے ہر کسی قسم کی آسانیاں فراہم کرتے رہے۔ سردار عبدالقیوم خاں نے ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کے نعرہ کو اپنایا اور اسے کمال طور پر تشہیر دی۔ بھارت روز اول سے اس نعرہ سے اتنا خائف تھا کہ اس نے ابتدا ہی میں اقوام متحدہ میں جا کر پناہ لی۔ اقوام متحدہ کی مداخلت سے کشمیر میں ہونے والی اس لڑائی میں ٹھہراؤ آیا اور پھر جنگ بندی اور کنٹرول لائن بن گئی۔ تب سے اب تک کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی فائلوں میں دبا ہوا ہے۔

سردار عبدالقیوم خاں کی کشمیر کی آزادی کے سلسلہ کی کاوشوں کا کہاں تک ذکر کیا جائے‘ مختصراً یہ کہ 1965ء کی جنگ میں انہوں نے پاک فوج کی مدد کے لیے رضا کار تیار کیے اور دیگر دفاعی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ 1968ء میں کشمیر کی آزادی کے لیے مسلح جہاد کا دوبارہ آغاز کیا اور ’’المجاہد فورس‘‘ انہی دنوں قائم کی۔ 1971ء میں سقوطِ ڈھاکہ کے بعد قوم کو نظریاتی اور فکری انتشار سے بچانے اور شکست خوردہ قوم کو دوبارہ اپنے نظریاتی استحکام کی طرف موڑنے کے لیے ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کے نعرہ کو از سر نو فروغ دیا کہ یہ نعرہ آج بھی سیز فائیر لائن کے دونوں اطراف پوری قوت سے گونج رہا ہے۔ یاد رہے کہ وزیر اعظم نواز شریف نے گذشتہ ستمبر میں جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جرأت مندانہ انداز سے مسئلہ کشمیر اٹھایا تھا۔ سردار عبدالقیوم خاں کے دل میں پاکستان کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔

ان سطور کے راقم نے مرکزی جمعیت اہل حدیث کے مرحوم اکابرین کے ساتھ مظفر آباد میں اور راولپنڈی کے تبلیغی سفروں میں جمعیت کے رہنماؤں سے ان کی گفتگو کو سنا اور پاکستان کے استحکام وبقا اور سالمیت کے خلاف کی جانے والی سازشوں پر گہرے غم وغصہ کا اظہار کرتے ہوئے دیکھا۔ اپنے دور صدارت میں آزاد کشمیر میں تعمیر وترقی اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے محکمہ ترقیات‘ محکمہ امور دینیہ‘ محکمہ قضاء وافتاء قائم کیے۔ دینی مدارس کی باقاعدہ سرپرستی‘ صدر کی سطح پر ہفتہ وار درس قرآن مجید کا اہتمام‘ آزاد کشمیر میں مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے‘ آزاد کشمیر کے آئین میں ’’الحاقِ پاکستان‘‘ کا ’’آرٹیکل‘‘ شامل کرانے اور جمعہ کی سرکاری چھٹی وغیرہ بہت سے اقدامات بروئے کار لائے گئے۔ علاوہ ازیں اردو کو قومی زبان قرار دینا اور شلوار قمیص کو قومی لباس قرار دینے کے بیشتر اقدامات اٹھائے۔ 1979ء میں جبکہ حج پر راقم الحروف حضرت علامہ احسان الٰہی ظہیر کی رفاقت میں رابطہ عالم اسلامی (مکہ مکرمہ سعودی عرب) کے اجلاس میں موجود تھا‘ انہیں رابطہ کا تاسیسی ممبر مقرر کیا گیا۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے زور دار خطاب میں مسئلہ کشمیر کو خوب اجاگر کیا اور اس مسئلہ کے حل کو برصغیر میں قیام امن کے لیے اہم ترین اقدام قرار دیا۔

تحریر: جناب عبدالرشید ۔ ستیانہ بنگلہ

انتہائی مشفق ومہربان استاد محترم شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد علی حامد رحمہ اللہ 29 جون 2010ء بروز سوموار اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ حضرت الاستاذ کے ساتھ کئی لحاظ سے تعلق رہا۔ وہ میرے انتہائی مہربان تھے۔ میں نے آٹھ سال تک ان کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا اور مزید دو سال آپ کی شفقت میں ابتدائی تدریس کا آغاز کیا۔ اس طرح دس سال تک آپ کی خدمت میں حاضری کا موقع ملا۔ چونکہ ہمارا گاؤں چک نمبر 24 گ ب حضرت الاستاذ کی جائے خطابت وامامت کے قریب تھا‘ ایک مرتبہ میں اپنی والدہ محترمہ کے ساتھ دعا کروانے کے لیے بھی حاضرخدمت ہوا۔ بالخصوص ہمارے گاؤں کے سبھی لوگ حضرت الاستاذ کے مرید تھے۔ اس لیے بھی مختلف اوقات میں آپ تشریف لایا کرتے تھے اور آپ کی میزبانی کا شرف حاصل ہوتا۔ میری خواہش تھی کہ خود انہی کی زبانی ان کے حالات زندگی تحریر کر لیے جائیں لیکن موقع نہ ملا۔ ویسے بھی آپ تصنع اور تکلفات سے کوسوں دور تھے اور کئی مرتبہ اصرار کے باوجود ٹال دیتے تھے۔ گذشتہ سال 15 اپریل 2014ء بروز منگل بعد نماز عصر آپ کے گھر ستیانہ بنگلہ میں حاضری کا موقع ملا اور بعض ضروری کوائف لکھنے میں کامیاب ہوا۔

میں نے تاریخ پیدائش کے متعلق سوال کیا تو فرمانے لگے کہ صحیح تاریخ پیدائش کا تو علم نہیں البتہ اب 75 سال کی عمر ہو چکی ہے۔ اس حساب سے پیدائش کا سن 1937ء بنتا ہے۔ مزید آپ نے جو معلومات بتائیں ان کے مطابق استاد محترم نے ابتدائی تعلیم چک نمبر 36 گ ب میں مولانا عبدالغنی مرحوم‘ مولانا عتیق اللہ سلفی اور نانا محترم صوفی محمد مرحوم سے ناظرہ قرآن مجید پڑھا۔ پرائمری تعلیم حاصل کرنے کے بعد دینی تعلیم کا شوق دامنگیر ہوا تو اپنے چچا محترم مولانا محمد زکریا مرحوم کی معیت میں جھوک دادو میں داخلہ لے لیا۔ وہاں رہ کر مولانا حمزہ بن میاں باقر رحمہ اللہ سے فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ نیز مولانا عتیق اللہ بن میاں باقر رحمہ اللہ سے کسب فیض کیا۔ چھ ماہ کے بعد جب مدرسہ تاندلہ شہر میں منتقل ہو گیا تو تاندلہ تشریف لے گئے۔ بلوغ المرام سے سنن النسائی تک اور نحو میر سے ہدایۃ النحو تک کی کتب پڑھیں اور حافظ عبدالغفور جہلمی‘ مولانا محمد یعقوب آف گوجرہ‘ مولانا محمد حسین طور‘ مولانا عطاء اللہ اور شیخ الحدیث حافظ احمد اللہ بڈھیمالوی کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا۔ اس کے بعد جامعہ محمدیہ اوکاڑہ کی طرف رخت سفر باندھ لیا اور وہاں حافظ شفیق الرحمن لکھوی سے کافیہ اور عربی ادب کی کتب‘ مولانا ہدایت اللہ سے جامع الترمذی اور مختصر المعانی‘ مولانا عبدہ الفلاح سے صحیح مسلم اور دیوان المتنبی وغیرہ کتب پڑھیں۔ مزید جامعہ محمدیہ اوکاڑہ میں حافظ عبداللہ محدث بڈھیمالوی سے بھی کسب فیض کیا جنہیں استاذ محترم چچا جی کے نام سے یاد کرتے تھے۔اس دوران مولانا محمد علی حامدؒبیمار ہو گئے اور ٹی بی جیسے مرض میں مبتلا ہو گئے۔ یوں سلسلہ تعلیم منقطع ہو گیا۔ علاج ومعالجہ کے بعد میاں محمد کاہلوں چک نمبر 23 گ ب جڑانوالہ نے پیش کش کی کہ ہمیں امام وخطیب کی ضرورت ہے لہٰذا آپ ہمارے ہاں تشریف لے آئیں۔ چنانچہ ان کی دعوت پر آپ چک نمبر 23 گ ب میں تشریف لے گئے اور ہر عسر ویسر میں 22 سال تک امامت وخطابت کا فریضہ انجام دیا۔ جوانی کا دور تھا‘ ابھی شادی بھی نہ ہوئی تھی‘ دور ونزدیک دیہات وقصبات میں وعظ وتبلیغ اور مناظرہ کے لیے تشریف لے جاتے رہے۔ اس دوران حافظ عبداللہ محدث بڈھیمالوی جامعہ تعلیم الاسلام مامونکانجن میں بطور شیخ الحدیث تشریف لے گئے تو استاد محترم نے ان سے دوبارہ باقاعدہ صحیح البخاری پڑھی۔ استاد محترم نے بتایا کہ میں روزانہ تقریباً 150 صفحہ فتح الباری کا مطالعہ کرتا اور حافظ عبداللہ بڈھیمالوی مجھے علیحدہ تین گھنٹے صحیح البخاری پڑھاتے اور باقی چار گھنٹے دیگر اسباق۔ فراغت کے وقت حضرت صوفی عبداللہ نے فرمایا کہ وہ مولوی صاحب جو جڑانوالہ سے روزانہ اتنا لمبا سفر کر کے پڑھنے آیا کرتے تھے میں ان کو اپنے ہاتھ سے سند دوں گا۔ صوفی عبداللہؒ نے 28 اپریل 1975ء کو وفات پائی جس سے معلوم ہوا کہ مولانا محمد علی حامدنے صحیح البخاری حضرت صوفی عبداللہ کی زندگی میں پڑھ لی تھی۔

آپ 1980ء میں جامعہ تعلیم الاسلام میں بطور مدرس تشریف لے گئے۔ ان دنوں جامعہ میں شیخ الحدیث حافظ بنیامین طورؒ‘ مولانا محمد علی مسلمؒ‘ مولانا عبدالرشید اٹارویؒ‘ مولانا رفیع الدین فردوسیؒ‘ مولانا عبداللہ مشتاق اور مولانا محمد امین صادق اور شاہ عبدالخالق ترمذی تدریس کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ مارچ ۱۹۸۴ء میں راقم الحروف جامعہ تعلیم الاسلام کی پہلی کلاس میں داخل ہوا‘ میں نے استاد محترم سے جامع الترمذی تک کتابیں پڑھیں۔ مولانا محمد علی حامدؒ نے ۲۲ سال تک جامعہ تعلیم الاسلام مامونکانجن میں تدریس کا فریضہ انجام دیا اور ۲۰۰۲ء میں ایک سال کے لیے مرکز الدعوۃ السلفیہ ستیانہ بنگلہ تشریف لے گئے‘ سنن ابوداود‘ بدایۃ المجتہد وغیرہ کتب کا درس دیا۔ اس کے بعد تین سال جامعہ سلفیہ للبنات جڑانوالہ میں صحیح البخاری کا درس دیا۔ جب حافظ بنیامین طورؒ دوبارہ جامعہ تعلیم الاسلام مامونکانجن تشریف لے گئے اور بہت زیادہ نحیف وکمزور ہو گئے تو انہوں نے انتظامیہ سے فرمایا کہ مولانا محمد علی حامدؒ کو مامونکانجن بلا لیں تا کہ وہ میرا دست وبازو بن کر جامعہ کی تعمیر وترقی کے لیے تگ ودو کریں۔

چنانچہ آپ جامعہ مامونکانجن میں دوبارہ تشریف لے گئے اور شیخ الحدیث حافظ بنیامین طور کی وفات کے بعد مولانا عبدالرشید اٹارویؒ کی معیت میں درس بخاری دیتے رہے اور استاد محترم مولانا عبدالرشید اٹارویؒ کی وفات کے بعد مکمل صحیح البخاری پڑھاتے رہے۔ اس طرح جامعہ مامونکانجن میں آپ نے تقریباً سات مرتبہ صحیح البخاری پڑھائی۔

مولانا محمد علی حامدؒ بہت مہمان نواز تھے‘ ایک مرتبہ چک نمبر ۳۵ گ ب میں چوری ہو گئی اور کھوجی کے ہمراہ لوگ چک نمبر ۲۳ میں رات رک گئے تو انہوں نے گاؤں کے نمبردار سے کہا کہ ہمارے لیے کھانے کا انتظام کریں۔ نمبردار نے جواب دے دیا۔ شام کے بعد کا وقت تھا‘ بالآخر وہ امام مسجد مولانا محمد علی حامدؒ کے پاس آگئے۔ آپ نے فرمایا کہ میں تمہارے کھانے کا انتظام کرتا ہوں۔ فورا گھر تشریف لے گئے اور اہل خانہ سے کہا کہ اتنے لوگ مہمان ہیں ان کے کھانے کا ہنگامی بنیادوں پر فوراً بندوبست کریں۔ چنانچہ فی الفور ان کے کھانے کا انتظام کیا گیا۔

ایک مرتبہ قصبہ کنجوانی میں ایک مولوی کے ساتھ مناظرہ طے پایا‘ میدان مناظرہ میں جب مخالف دلیل نہ دے سکا تو دیوار پھیلانگ کر بھاگنے لگا۔ مولانا محمد علی نے فورا اس کا پیچھا کر کے پکڑ لیا اور کہا کہ مولوی صاحب! مناظرہ کریں یا شکست لکھ کر دیں۔ آپ ایک کامیاب عوامی خطیب تھے‘ ساری عمر دعوت وتبلیغ کا فریضہ انجام دیتے رہے۔ ۲۳ سال چک نمبر ۲۳ گ ب میں خطابت کی‘ کچھ عرصہ مسجد دارالسلام جڑانوالہ اور جامعہ تعلیم الاسلام مامونکانجن میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا اور اس کے بعد زندگی بھر چک نمبر ۱۲ گ ب نزد فیصل آباد میں خطبہ جمعہ ارشاد فرماتے رہے۔ حتی کہ آخری خطبہ بھی اسی مسجد میں دیا۔

استاد محترم مولانا محمد علی حامدؒ انتہائی سادہ اور آزاد منش انسان تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی کلام میں اثر رکھا تھا۔ ڈاکٹر اللہ رکھا جو حنفی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں انہوں نے وفات کے بعد فرمایا کہ مولانا محمد علی حامد کی زبان میں اتنی تاثیر تھی کہ میں نے متعدد مرتبہ ان کے پیچھے عید کی نماز پڑھی۔ جب کوئی واقعہ بیان کرتے یا آخر میں دعا کرتے تو بلا اختیار آنکھوں سے آنسو نکل آتے تھے۔ دم وغیرہ بھی کیا کرتے تھے۔ بہت سارے لوگ دور دراز کے علاقے سے حاضر ہوتے اور اللہ تعالیٰ انہیں شفاء عطا فرما دیتے۔

تعزیت کرنے والے احباب نے بتایا کہ ایک مرتبہ مولانا عبدالرشید حجازی (امیر ضلع فیصل آباد) کے گاؤں میں ایک آدمی نے نئی تھریشر اور ٹریکٹر لیا لیکن وہ چل نہ سکا۔ سبھی کو دکھایا اور کاریگروں نے کہا کہ اس میں کوئی نقص نہیں‘ چنانچہ وہ حضرت مولانا محمد علی حامدؒ کے پاس آئے اور اپنی مشکل بیان کی۔ آپ ان کے ساتھ تشریف لے گئے اور تھریشر کے گرد چکر لگایا اور دم کیا اور بلامبالغہ تھریشر نے کام کرنا شروع کر دیا۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کی آخرت کو بہتر بنائے‘ لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین!

تحریر:  جناب عبدالرشید عراقی

دین اسلام ایک انسان میں کس قدر عظیم الشان انقلاب برپا کرتا اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں کام کرنے کی صورت میں اس کی مشکلات دور کر دیتا ہے اور بہت آسانیاں پیدا کرتا ہے۔ اس کی مثال ہمارے سامنے شیخ التفسیر والحدیث مولانا ابوانس محمد یحییٰ گوندلوی رحمہ اللہ تھے۔ جنہیں دین اسلام، قرآن وحدیث اور مسلک اہلحدیث سے اس قدر محبت تھی کہ تاریخ میں اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ اس زمانہ میں اصل کام اسلام کو زندہ کرنا اور دنیا پر اسے اپنی صحیح شکل میں پیش کرنا ہے۔ اسلام کی زندگی کے بغیر انسانیت کی زندگی قطعی بے کار اور بے معنی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی دعوت دینے والے، مسلمانوں کو صحیح دین اسلام، قرآن وحدیث کی تعلیم اور شرک وبدعت ومحدثات سے بچانے کے لیے مولانا محمد یحییٰ گوندلوی رحمہ اللہ نے اپنی زندگی وقف کر رکھی تھی۔ جو شخص ان کی تحریر وں کو پڑھے گا اسے معلوم ہو گا کہ ان میں ایمان کی کس قدر قوت تھی۔ ان کا مطالعہ کس قدر گہرا تھا اور مسائل دینیہ پر مکمل طور پر آگاہی تھی۔ تفسیر، حدیث، فقہ المذاہب الاربعہ اور تاریخ پر انہیں بہت زیادہ عبور تھا۔

کم ہی لوگ ایسے ہوتے ہیں جن پر زمانے کو فخر ہوتا ہے جیسا کہ سمندر اپنے موتیوں پر فخر کرتے ہیں، موتی میں سے وہ عالم ہوتا ہے جو سورج کے مشابہ ہوتا ہے اور اندھیرے میں روشنی کوئی بعید نہیں اور یہ ہمارے محترم شیخ التفسیر والحدیث مولانا محمد یحییٰ گوندلوی رحمہ اللہ تھے۔

مولانا محمد یحییٰ گوندلوی رحمہ اللہ اہل حدیث کے جید عالم دین تھے۔ ان کے رخصت ہونے سے ایک روشن چراغ بھی گل ہوا۔ اندھیرا اور بڑھ گیا۔ ان کے دم قدم سے دنیائے علم وادب میں جو رونق تھی وہ سونی پڑ گئی۔ وہ ایک قیمتی متاع تھے جس کو موت نے ہم سے چھین لیا۔ ان کی موت سے بلا مبالغہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ جماعت پاکستان سے ایک ایسا جید عالم دین، مفسر قرآن، جلیل القدر محدث، نامور مؤرخ ومحقق، دین اسلام کے فروغ، مسلک اہل حدیث کی ترقی وترویج، شرک وبدعت ومحدثات کی تردید وتوبیخ اور ادیان باطلہ کا قلع قمع کرنے والے مجاہد کی کمی ہو گئی۔ علم وفضل کے اعتبار سے مولانا گوندلوی رحمہ اللہ کا مرتبہ ومقام بہت بلند تھا۔ تفسیر قرآن، حدیث نبوی، اصول حدیث، فقہ واصول فقہ، جرح وتعدیل میں ان کو بہت مہارت حاصل تھی۔ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے انہیں والہانہ محبت تھی اور حدیث کے معاملہ میں معمولی سی مداہنت بھی برداشت نہیں کرتے تھے۔ جس کسی نے بھی حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تنقید وتنقیص کا سلسلہ شروع کیا اور ناروا حملے کرنا شروع کیے ان کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے مرحوم مولانا گوندلوی رحمہ اللہ میدان عمل میں اترتے اور دلائل سے معترضین کا رد کرتے تھے۔ (اس کی شہادت ہفت روزہ الاعتصام لاہور، ہفت روزہ تنظیم اہل حدیث لاہور، ہفت روزہ اہل حدیث لاہور، ماہنامہ ترجمان الحدیث فیصل آباد، ماہنامہ ضیائے حدیث سوہدرہ (اب لاہور) اور ماہنامہ نداء الاسلام پشاور سے مل سکتی ہے)۔

مولانا محمد یحییٰ گوندلوی رحمہ اللہ جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ کے اُن سپوتوں میں سے تھے جن پر یہ دینی درسگاہ زندگی بھر یاد کرے گی۔ فراغت کے بعد مرحوم مولانا گوندلوی رحمہ اللہ نے حافظ آباد، قلعہ دیدار سنگھ، فاروق آباد اور ساہووالہ میں برسوں درس دیا جہاں بھی درس وتدریس کا سلسلہ شروع کیا وہاں افتاء کی ذمہ داری بھی قبول کر لی۔

مولانا گوندلوی رحمہ اللہ علم وفضل کے اعتبار سے جامع الکمالات تھے، ان کی ذات جدید وقدیم کا سنگم تھی۔ وہ اپنی شکل وصورت کے اعتبار سے عالم دین اور اپنے ذوق علمی اور تحقیق وتدقیق کے فطری ذوق کی بدولت بلند مرتبہ محقق ومؤرخ تھے۔ مولانا گوندلوی مرحوم کم گو مگر فعال، سنجیدہ مگر سرگرم اور نبض شناس، تواضع وانکساری کی وجہ سے صوفی، وسیع المشرب، وسیع الاخلاق، وسیع القلب، زہد وورع اور تقویٰ وطہارت کے پیکر، کریم النفس، شریف الطبع، اپنے پہلو میں درد مند دل رکھنے والے، بہت زیادہ مہمان نواز اور میزبان کا احترام کرنے والے، بہت زیادہ خود دار، قانع وصابر، متحمل مزاج اور کریمانہ اخلاق وستودہ صفات کے حامل تھے۔

مولانا محمد یحییٰ گوندلوی رحمہ اللہ عمر بھر مرکزی جمعیۃ اہل حدیث پاکستان کی مجلس شوریٰ کے معزز رکن رہے مگر اس کے ساتھ ان کا تعلق جماعت اہل حدیث پاکستان (روپڑی گروپ) سے بھی تھا، وہ شعبہ تقابل ادیان کے سرپرست اور صدر مجلس علمی مناظرہ جامعہ اہل حدیث بھی تھے۔

مولانا محمد یحییٰ گوندلوی رحمہ اللہ میں ایک خوبی یہ بھی پائی جاتی تھی کہ وہ اپنے اساتذہ کرام کا بہت زیادہ احترام کرتے تھے۔ جب کبھی اپنے اساتذہ کا ذکر کرتے تو بڑے والہانہ انداز میں ان کے علم وفضل کا اعتراف کرتے تھے۔ ان کے اساتذہ میں شیخ الحدیث مولانا ابوالبرکات احمد مدراسی، مولانا قاری محمد یحییٰ بھوجیانی، مولانا محمد عبدہ، الفلاح، شیخ الحدیث مولانا محمد اعظم رحمہم اللہ، مولانا حافظ محمد الیاس اثری حفظہ اللہ اور مولانا ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ شامل ہیں۔

حضرت العلام حافظ محمد محدث گوندلوی رحمہ اللہ، شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ، حافظ عبدالقادر روپڑی رحمہ اللہ، مولانا محمد عطاء اللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ، مولانا محمد حنیف ندوی رحمہم اللہ اجمعین اور موجودین میں پروفیسر ساجد میر، مولانا محمد اسحاق بھٹی، حافظ عبدالغفار روپڑی، حافظ عبدالوہاب روپڑی، حافظ فاروق الرحمن یزدانی اور حافظ احمد شاکر کے علم وفضل اور ان کی اپنی خدمات کے بہت معترف تھے اور ان حضرات کا ذکر بڑے اچھے انداز میں کیا کرتے تھے۔

شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز کی وفات کی خبر جب راقم نے بذریعہ موبائل دی تو بہت افسوس کا اظہار کیا۔ کئی دفعہ انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا اور کہا کہ میں جنازہ میں شرکت سے معذور ہوں۔ میں ایسی جگہ ہوں کہ وقت پر جنازہ میں شرکت نہیں کر سکتا۔ ایک ہفتہ بعد ملاقات ہوئی تو فرمایا:

’’عراقی صاحب! مولانا جانباز کے انتقال سے بہت صدمہ ہوا، جماعت اہل حدیث ایک محقق عالم دین سے محروم ہو گئی ہے، ان کی خدمات علمیہ کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ سنن ابن ماجہ کی عربی شرح ’’انجاز الحاجہ‘‘ ان کی عظیم علمی خدمت ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ مولانا جانباز مرحوم کی اس علمی خدمت کو قبول فرمائے اور ان کی نجات کا ذریعہ بنائے۔‘‘

مولانا گوندلوی رحمہ اللہ دینی غیرت وحمیت کی ایک زندہ مثال تھے۔ حق کے معاملہ میں کسی قسم کی معمولی مداہنت کو بھی وہ جائز نہیں سمجھتے تھے۔ حق گوئی اور بے باکی اُن کا امتیازی وصف تھا۔ مولانا گوندلوی زیابطیس کے مریض تھے اور اسی مرض میں مولانا محمد علی جانباز رحمہ اللہ کے انتقال کے 45 دن بعد 26 جنوری2009ء کو نماز عشاء کے وقت اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!

داغ فراق صحبت شب کی جلی ہوئی

اک شمع رہ گئی تھی جو وہ بھی خموش ہے